Abidqadri's Weblog

Hadith " تعبد الله كأنك تراه "

مظهر الايمان

اللہ اور بندے کا تعلق

دنیا کا ھر واحد عنصر دراصل مرکب کا حامل ھوتا ھے۔ جیسے ریت کا ایک ذرہ جو بظاھر مفرد یا واحد نظر آتا ھے اس میں بھی کئ چیزوں کی آمیزش ھوتی ھے۔ کوئی واحد اور منفرد (مخلوق میں سے) آمیزش سے خالی نہیں۔ صرف اللہ تعالی کی ذات ھی واحد، احد، یکتا و یگانہ و بے مثل و بے نظیر ھے۔ وہ ایسا واحد اور احد ھے جو آمیزش سے پاک ھے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ھو سکتا کیونکہ یہ فطری طور پر ناممکنات میں سے ھے۔ ھمارے پروردگار کا ذاتی نام (اسم اللہ) ھی وحدانیت کا حامل ھے۔

اسم اللہ کے حروف ایک ایک کر کے ھٹانے بھی آخری حرف تک اس کا نام اور ذات باقی رھتے ھیں۔ دنیا میں کسی بھی مخلوق کا نام لے لیجۓ اس کا ایک یا دو حروف ھٹانے سے نہ تو اس کا صحیح نام رھتا ھے اور نہ ذات کے ساتھ تعلق باقی رہ سکتا ھے مثلا نذیر کا “ن” دور کرنے سے ذیر رہ گیا۔ اب نہ اسم نذیر ھی رھا اور نہ ھی ذات کے ساتھ ذیر کا کوئی تعلق رھ گیا۔ تمام مخلوق کے ناموں کا یہی حال ھے۔ لیکن اسم اللہ کا ایک ایک حرف ھٹا کر دیکھۓ۔ نام بھی باقی رھے گا اور ذات سے تعلق بھی قائم رھے گا۔

مثلا اسم اللہ کا الف دور کرنے سے “للہ” رہ جائیگا۔ نام بھی پورا ھے اور ذات سے تعلق بھی موجود ھے۔ جیسے لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ اب “للہ” کا “ل” دور کرنے سے “له” رہ جائیگا۔ جیسے قرآن پاک میں ھے لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ اب اس کی ذات سے تعلق بھی قائم ھے اور نام بھی ظاھر ھوتا ھے۔ اب لھٹانے سے ہ” (ھو) باقی رہ جائیگا جیسے قرآن پاک میں ھے هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ۔ اب هُوَ جو ضمیر متصل ھے اپنی ذات کی طرف راغب ھے۔ پس ثابت ھوا کہ باری تعالی کا نام ھی اپنی ھی وحدانیت کا علمبردار ھے۔

اب روح امر ربیھے جو مخلوق کی طرف راغب ھے۔ جب اللہ تعالی نے آدمی کو پیدا فرمایا تو اس میں اپنی روح پھونکی جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے وَنَفَخْت فِيهِ مِنْ رُوحِي۔ یعنی میں نے پھونک دی اس میں اپنی روح۔ اب چونکہ روح اللہ تعالی کی ھے اسلئے اللہ تعالی فرماتا ھے كَيْف تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (سورة البقرة 28) یعنی تم کیسے اللہ کے منکر ھوجا‏ؤ گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تم کو زندہ کیا پھر تم کو مارے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

پس ثابت ھوا کہ آدمی کا آنا اللہ تعالی کی طرف سے ھے۔ اور واپس لوٹنا بھی اللہ تعالی کی طرف ھے۔ تو معلوم ھوا کہ اللہ تعالی کی طرف رغبت اور محبت کے سوا چارہ نہیں۔ جتنی زیادہ محبت اتنا ھی اپنے اصل کی طرف راجع، جتنی محبت کم اتنا ھی اصل سے دور، جس نے بالکل ھی چھوڑ دیا، اس نے گویا اپنے اصل کو چھوڑ دیا اور اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسلئے دوزخ لازم آئے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی جان کو اپنے اصل سے جدا کیا۔ اگر اپنے اصل کی طرف رغبت کی تو کامیابی، عزت اور وقار اس کے قدموں پر ھے۔

چونکہ انسان کا اصلی جوھر روح ھے اور روح اللہ تعالی کا امر ھے اسلئے نہ خالق ھے نہ مخلوق ھے۔ یہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان واسطہ ھے۔ گویا خالق اور مخلوق کے درمیان امر اس کا واسطہ ھے اسلئے اس کو افضل المخلوق کہا گیا ھے۔ اور سب سے بڑا واسطہ، سب سے بڑا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان روح ھی ھے۔ اسی واسطے سے بندہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کر سکتا ھے۔ اور جتنی روحانی قوت یا روحانیت کمزور ھوگی اتنا ھی اپنی اصل یعنی اللہ تعالی سے دور ھوتا چلا جائیگا۔ پس ثابت ھوا کہ انسان کا وقار، عزت، دین و دنیا سب کچھ روحانیت ھی پر منحصر ھے۔

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

تمام جہانوں میں اور عالم کبیر کے ھر ذرے میں اللہ تعالی کی نورانیت ظاھر ھوتی ھے۔ ان تمام انوار کو اکٹھا کرکے باری تعالی نے عالم صغیر یعنی آدمی میں رکھ دیا۔ اسلئےتمام مخلوق سے آدمی افضل ھے۔ اس میں عالم کبیر کے صفات ظاھر ہیں۔ گویا کہ باری تعالی نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ اب تمام انسانوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک ولی میں رکھ دیا۔ تمام ولیوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک غوث میں رکھ دیا اور تمام غوثوں کی نورانیت کو ایک مجدد میں رکھ دیا۔ تمام مجددوں کے نور کو اکٹھا کرکے ایک صحابی میں رکھ دیا۔ تمام صحابہ کے نور کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹے نبی علیہ السلام میں رکھ دیا۔ تمام نبیوں کی نورانیت کو ایک رسول علیہ السلام میں رکھ دیا اور تمام رسولوں کے نور کو اکٹھا کرکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھ دیا۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام نورانیت کا مجموعہ اور جڑ ہیں۔

جیسا کہ ایک درخت کی جڑ تمام شاخوں اور پتوں کو غذا دیتی ھے اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام افراد امت کو ایمانی تقویت بخشتے ہیں۔ جس طرح کہ اگر ایک پتّہ یہ دعوی کرے کہ میں جڑ سے تعلق رکھے بغیر سر سبز رہ سکتا ھوں تو یہ دعوی باطل ھوگا اور وہ جڑ سے تعلق منقطع کرکے سر سبز نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح کوئی بھی انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق توڑ کر مسلمان یا مومن نہیں بن سکتا۔ جتنا تعلق اور محبت زیادہ ھوگی اتنا ھی ایمان قوی ھوگا۔

جب آدمی کلمۂ طیبہ پڑھ لیتا ھے تو دائرہ اسلام میں داخل ھو جاتا ھے، مسلمان بن جاتا ھے۔ جب اسلامی ارکان پورے کرکے اسلام میں مکمل ھو جاتا ھے تو مومن بن جاتا ھے۔ جب اس کا ایمان قوی ھوجاتا ھے تو موقن بن جاتا ھے۔ جب اس کا یقین کامل ھوتا ھے تو محب بن جاتا ھے۔ جب محبت اور عشق میں کامل ھوجاتا ھے تو باری تعالی اسے اپنا محب اور مقرب بنالیتے ھیں۔

اسلامی ارکان کامل کرکے ایمان میں قوی ھونا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر منحصر ھے۔ جتنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اتنا ھی قوی ایمان۔ جتنی کم محبت اتنا ھی ایمان کمزور جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث شریف میں ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) یعنی اے صحابہ! تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہیں ھوسکتا یہاں تک کہ اس کی محبت میرے ساتھ ھو۔ محبت اولاد سے، والدین سے، مال سے، تمام دنیا سے، تمام کائنات سے زیادہ ھو۔تو معلوم ھوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کامل ھونا ھی ایمان کی تکمیل ھے۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھ جاتی ھے تو باری تعالی اس کا ھاتھ پکڑلیتے ہیں۔ وہ کامل ولی، غوث اور مجدد ھوجاتا ھے۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ہیں قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّون اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ” (سورة آل عمران-31)۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ھوجاتی ھے تو اتباع کرنا آسان ھوجاتا ھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع میسر آجائے تو باری تعالی کی محبت میں کامل ھوجاتا ھے۔اور اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کرکے گویا اس نے خدا کی محبت، گناھوں سے بخشش اور خدا کو راضی کرنا سب کچھ حاصل کرلیا۔ گویا تمام اسلام کا انحصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ھے۔ اسی سے روح کو تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب روحانیت غالب آتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹتی ھے اللہ تعالی اس پر راضی ھوجاتا ھے۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ھوجاتے ہیں۔

مسلمان اور نماز

ھر ایک چیز کا عروج ھوتا ھے۔ جس چیز کی بدولت یہ عروج ھو وھی سر فہرست اور اھم ھوتی ھے۔ اسلام میں عروج نماز میں ھے۔ اسی لئے نماز مومن کی معراج ھے۔ اللہ اور بندے کے درمیان نماز ھی ایک ایسا مقام ھے جس میں بندہ اپنے مولا سے ھم کلام ھوکر اللہ کا دیدار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رحمت و شفقت حاصل کرتا ھے۔ اصل میں نماز کی ضرورت تمام اسلام میں زیادہ اسلئے ضروری ھوئی کہ ابتدائے اسلام میں آپ جانتے ھونگے کہ جب کوئی آدمی اسلام کی دعوت قبول کرتا تو صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّه پڑھتا اور مسلمان بن جاتا۔ اس پر اور کوئی فرض عائد نھیں تھا لیکن گناہ سے تائب ھونا فرض تھا۔ اسلام کی بنیاد ھی ممنوعات سے بچنا تھا۔ جو شخص فتل، زنا یا بری چیزوں سے توبہ کرتا وہ مسلمان ھوجاتا تھا۔ اب اسلام میں ممنوعات سے بچنا ھی زیادہ ضروری ھے۔ تو باری تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا:الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ(سورة العنكبوت-45) یعنی نماز بے حیائی اور ممنوعات سے روکتی ھے۔ تو نماز نے ممنوعات سے بچنے میں مدد دی اور وھی فرض جو اسلام کیلئے ضروری تھا اسے پورا کرنے کی راہ ھموار کردی۔

نماز سنت انبیاء ھے۔ فجر کی نماز حضرت آدم علیہ السلام نے پڑھی۔ ظہر کی نماز حضرت ابراھیم علیہ السلام نے پڑھی۔ عصر کی نماز حضرت موسی علیہ السلام نے پڑھی۔ مغرب کی نماز حضرت عیسی علیہ السلام نے پڑھی۔ اور عشاء کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی۔ حدیث پاک میں مروی ھے کہ جس نے فجر کی نماز با جماعت ادا کی حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بیس مقبول حج کئے۔ ظہر کی نماز با جماعت پڑھی تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ساتھ چالیس مقبول حج کئے۔ عصر کی نماز سے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ گویا ساٹھ مقبول حج کئے۔ مغرب کی نماز سے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ اسّی مقبول حج کئے۔ اور عشاء کی نماز با جماعت پڑھی تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیّت میں سو مقبول حج کئے۔ ذرا غور کیجئے، ایک حج پر جتنا خرچ آتا ھے اس سے بیس، چالیس، ساٹھ، اسّی اور سو حج پر آنے والے خرچ کا اندازہ لگائیے۔ جو شخص با جماعت نماز نہیں پڑھتا اس کا کتنا نقصان ھوتا ھے!

جب آدمی نماز پڑھتا ھے حدیث پاک میں ھے باری تعالی فرماتے ھیں کہ مجھے دیکھ کر پڑھے اور اگر وہ مجھے نہ دیکھ سکے تو یوں سمجھے کہ میں اسے دیکھ رھا ھوں۔(أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك-صحيح البخاري) معلوم ھوا کہ نماز میں اللہ تعالی کا دیدار (جو کہ معراج کی علامت ھے) حاصل ھوتا ھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ھیں نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ھے۔جب آدمی نماز پڑھتا ھے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نھر میں پانچ دفعہ نھاتا ھے اس پر میل کیسے رہ سکتی ھے؟پانچ دفعہ نھانے سے پانچ نمازیں مراد ھیں۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ھیں کہ جب بھی کوئی مشکل آن پڑے تو صبر اور نماز سے کام لو۔

نماز ایک وجود رکھتی ھے جیسا کہ باری تعالی فرماتا ھے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (سورة البقرة-153) یعنی نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو۔ معلوم ھوا کہ ھر مشکل کے وقت نماز مدد دیتی ھے۔ نماز دافع البلاء ھے۔ مشکل کشا ھے۔ یہ انسان کو اس کے مولا کے قریب کرتی ھے۔ ایسی چیز بھلا دین میں ایک ستون کی سی اھمیت کیوں نہ حاصل کرے۔ اسی لئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ھیں الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّینیعنی نماز دین کا ستون ھے۔ اب جو شخص نماز سے درگزر کرتا ھے اس نے ابتدائے اسلام سے لے کر ایک بہت بڑے حصے سے روگردانی کی اور اتنی اھم چیز کو اپنے ھاتھ سے کھودیا۔ نہ اوامر میں کامل رھا، نہ منہیات سے بچ سکا اور اسلام کی روح سے بیگانہ رھا۔

نماز اندرونی بیرونی نجاست کو دور کرنے والی ھے، روح کو تقویت دینے والی ھے۔ کئی لوگ نماز کو صرف باطن کا نام دے کر دستبردار ھوجاتے ھیں۔ وہ سمجھتے ھیں کہ زبانی یا خیال سے خدا کو یاد کرنے کا نام نماز ھے حالانکہ نماز ایک وجود رکھتی ھے۔ اس کی اپنی ایک حد ھے۔ تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک کا نام نماز ھے جس میں قیام، رکوع، سجود، جلسہ، قومہ، قعدہ سب چیزیں موجود ھیں۔ ایک نماز کا جسم ھے دوسری نماز کی روح ھے۔ نہ جسم روح کے بغیر مکمل ھے نہ روح جسم کے بغیر۔ دونوں کا کامل اتحاد ھی مکمل نماز ھے۔ کامل نماز تب ھی ھوسکتی ھے جب اس ظاھری فرض نماز میں خیال سے ذکر و فکر، روحانی، جسمانی طور پر سب چیزیں باری تعالی کے ساتھ منسلک ھوں۔ صرف ظاھری صرف باطنی نماز کے علمبرداروں کو جاننا چاھیئے کہ ھر دو صرف صورت میں الجھے ھوئے ھیں۔ دونوں معنی سے دور ھیں۔ نماز ذکر سے مل کر معنی کی نماز بن جاتی ھے۔ اور جو ذکر نماز کے اندر ھو وہ معنی کا ذکر ھے۔

اگر نماز میں کسی ایک چیز کی بھی کوتاھی ھوگی تو نماز کامل نہیں۔ ظاھری اور باطنی نماز اسی کا نام ھے۔ وہ نماز کیوں نہ کامل و اکمل ھو جو با وضو ھوکر پاک جگہ پر قبلہ رو ھوکر قیام و رکوع و سجود میں پڑھی جائے اور ساتھ ھی ساتھ خدا کی یاد سے نمازی کا دل بھی آباد ھو۔ باطن اور ظاھر کی اکٹھی نماز پڑھے۔ جو لوگ دل میں خدا کی یاد ھی کو کامل نماز سمجھتے ھیں وہ حقیقی نماز کے قیوض و برکات سے بے بہرہ ھیں۔ یہی ذکر فکر اگر نماز کے اندر پایا جائے تو بہتر ھے۔ جب رکوع و سجود والی نماز میں روحانی طور پر خدا کو یاد کرے تو یہ کامل نماز ھے۔ اس سے روح تازہ ھوتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹنے میں کامیاب ھوجاتی ھے تو یہی مومن کی معراج ھے۔ روحانیت سے ھی نماز شرف قبولیت حاصل کرتی ھے۔

January 13, 2008 Posted by | مظهر الايمان | | 1 Comment

   

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.